8 اکتوبر 2011 - 20:30

فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس آزاد فلسطینی ریاست کے تسلیم کۓ جانے سے جنوبی امریکہ کے ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لۓ ایل سیلواڈور پہنچ گۓ ہیں۔

ابنا: محمود عباس آج اس ملک میں مقیم فلسطینیوں سے ملاقات کے بعد اس ملک کے صدر مائوریسو فونس سے ملاقات کریں گے۔ ایل سیلواڈور کے وزیر خارجہ ہوگو مار تینز نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ محمود عباس ایل سیلوا ڈور کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کۓ جانے کے لۓ ذاتی طور پر اس ملک کے صدر کا شکریہ ادا کریں گے۔ ایل سیلواڈور نے پچیس اگست کو آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا تھا لیکن سان سیلواڈور نے اقوام متحدہ میں آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل سے متعلق ووٹنگ کے سلسلے میں ابھی تک کوئي موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ ایل سیلواڈور کے صدر سے ملاقات کے بعد محمود عباس کولمبیا کے دارالحکومت بوگوتا بھی جائيں گے جہاں اس ملک کے صدر خوان مانوئیل سانتوس سے ملاقات کریں گے۔ سانتوس نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے ملک کا نمائندہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے سلسلے میں سلامتی کونسل میں ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن چھ ممالک لبنان ، برازیل ، چین ، ہندوستان ، روس اور جنوبی افریقہ نے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس مسئلے کے اٹھاۓ جانے کے لۓ دنیا کے اکثریت ممالک کی حمایت درکار ہے۔ برازیل جنوبی امریکہ کا وہ اہم ترین ملک ہے جس نے سب سے پہلے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ۔ برازیل کے بعد ارجنٹائن ، بولیویا ، ایکوا ڈور ، وینیزویلا ، نیکارا گوۓ اور کاسٹریکا نے بھی انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا۔ اب تک دنیا کے ایک سو تیس سے زیادہ ممالک باضابطہ طور پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھاۓ جانے کے بعد ان میں سے اکثر ممالک نے ابھی تک اپنے موقف کا اعلان نہیں کیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ کے ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے تسلیم کۓ جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ ممالک عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتےہیں۔ البتہ اس سلسلے کا آغاز سنہ دو ہزار چھ میں صیہونی حکومت اور لبنان کے درمیان ہونے والی جنگ سے ہوچکا ہے۔ اس وقت بھی اس علاقے کے ممالک نے لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کے حملے کی مذمت کی تھی۔ غزہ پر صیہونی حکومت کے حملے کے موقع پر بھی لاطینی امریکہ کے ممالک نے اسی سے ملتا جلتا موقف اختیار کیا تھا۔ بہرحال جنوبی امریکہ کے ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی حمایت دو پہلوؤں فلسطین و مشرق وسطی اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے اعتبار سے توجہ طلب ہے۔ جہاں تک لاطینی امریکہ کے ممالک کا تعلق ہے تو حالیہ برسوں میں اس خطے میں قائم ہونے والی عوامی حکومتوں نے آزادی عمل کا مظاہرہ کیا اور امریکہ کے تسلط اور اثر و رسوخ قبول نہ کیا۔ دوسری جانب جنوبی امریکہ کے ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کی حمایت سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس خطے کے ممالک پر فلسطین کی حمایت کے سلسلے میں کوئي دینی یا قانونی ذمے داری عائد نہیں ہوتی ہے لیکن وہ فلسطین کی حمایت کے سلسلے میں بعض عرب اور اسلامی ممالک سے بھی سبقت لے گۓ ہیں۔............ /169